Zafar Iqbal
![]() |
|
پانچ غزلیں
٭٭٭
یہاں سب سے الگ سب سے جدا ہونا تھا مجھ کومگر کیا ہو گیا ہوں، اور، کیا ہونا تھا مجھ کو ابھی اک لہر تھی جس کو گزرنا تھا سروں سے پھر اس کو ڈھونڈنے میں عمر ساری بیت جاتی پسند آیا کسی کو میرا آندھی بن کے اٹھنا وہاں سے بھی گزر آیا ہوں خاموشی سے اب کے در و دیوار سے اتنی محبت کس لیے تھی میں اپنی راکھ سے بے شک دوبارہ سر اٹھاتا میں اندر سے کہیں تبدیل ہونا چاہتا تھا ظفر، میں ہو گیا کچھ اور، ورنہ، اصل میں تو ٭٭٭
دور رہ کر نہ اسے پاس بلانے سے کیامیں نے اندازہ محبت کا بہانے سے کیا اس کے اپنے ہی خیالات پریشاں تھے بہت کچھ تسلی مجھے اندازِ تغافل سے ہوئی شرکت کار کا اک فیصلہ ہم دونوں نے کام کرنا تھا جو ہم نے کبھی خاموشی سے عکس اس شوخ کے باہر تک اسے چھوڑنے آئے کارِ دنیا میں بھلا بھی نہ سکے ہم تجھ کو شاعری تھی یہ کسی اور زمانے کے لیے ساز گار آب و ہوا ہی نہ ہوئی جس کو، ظفر ٭٭٭
چشمِ روزن نہ کسی در کی طرف سے آئیروشنی خواب کی باہر کی طرف سے آئی اک ہیولیٰ سا کسی طُرفہ نمائش سے اٹھا وہی شکوہ کبھی مجھ کو بھی رہا ہے تجھ سے اندر اندر میرے ہو سکتی ہے چنگاری بھی وار خالی ہی بظاہر تو دیا تھا لیکن ابر وہ جانبِ صحرا سے دوبارہ نہ اٹھا سوبھی میں نے اسے اسکی ہی طرف سے سمجھا مدتیں ہو گئیں، آتی نہیں چہرے پہ چمک آئی ہے وہ بھی کہیں اس کے ذریعے سے، ظفر ٭٭٭
لفظ پتوں کی طرح اڑنے لگے چاروں طرفکیا ہوا چلتی رہی آج مرے چاروں طرف میں نے خود کو جو سمیٹا تو اُسی لمحے میں رک گئے ہیں تو یہ دریا میرے اندر ہی رکے اب کہ ہوتا ہی نہیں میرا گزارا ان پر ہیں بھی ایسے کہ فقط مجھ کو نظر آتے ہیں میں ہی معدوم سا ہوتا گیا رفتہ رفتہ پہلے تو ایک طرف بیٹھ گیا وہ آ کر کوئی اطراف کی اب فکر اُسے کیا ہو گی آسماں پر کوئی تصویر بناتا ہوں، ظفر ٭٭٭
بظاہر صحت اچھی ہے جو بیماری زیادہ ہےاسی خاطر بڑھاپے میں ہوس کاری زیادہ ہے چلے گا کس طرح سے کاروبارِ شوق اس صورت محبت کام ہے جس طرح کا بس دیکھتے جاؤ ہمیں خود بھی یقیں آتا نہیں اس کا جو یہ ہم پر سراغ اس کا کہیں اندر تو کچھ ملتا نہیں بے شک اٹھا سکتے نہیں جب، چوم کر ہی چھوڑنا اچھا حفاظت ہی ہمارا مسئلہ تھا روزِ اول سے عمارت یہ مکمل ہونے والی ہی نہیں لگتی ضروری ہے تو کر دیں گے ظفر تردید بھی جاری ٭٭٭
امیدِ عاقبتِ کار کے برابر ہےیہ اک درخت کہ دیوار کے برابر ہے زیادہ دور نہیں امن و جنگ آپس میں تجھے خبر نہیں یہ ایک بار کا انکار کھلی ہے اور کوئی گاہک ادھر نہیں آتا ہو اس کے بعد زمانوں کا کیا حساب کتاب میں اس لیے بھی زباں کھولتا نہیں کہ ابھی ہوں اتنا بے سروساماں کہ اس دفعہ مجھ کو مجھے پسند ہے جی جان سے یہ عیبِ سخن وہی پسینہ پسینہ ہوں رات دن، کہ ظفر ٭٭٭
|
|
||||||||
Posted on October 14th, 2007 by adil
Filed under: General



Leave a Reply