ZAFAR IQBAL _6
![]() |
|
بچپن، شاعری، زندگی، خاندان
سوال: رائلٹی کو جو صورتِ حال پاکستان میں ہے کیا آپ اس سے مطمئن ہیں؟
ظفر اقبال: دیکھیں رائلٹی کی صورت یہ ہے کہ جو معروف پبلشر ہیں وہ رائلٹی وائلٹی نقد نہیں دیتے عام طور سے۔ شاعر کو تو رائلٹی تو وہ ویسے بھی نہیں دیتے اگر دیں بھی تو کہتے ہیں کہ جو پیسے آپ کے بنتے ہیں ان کی آپ کتابیں اٹھا لیں۔ نقد پیسے نہیں دیں گے اس کا دوسرا فائدہ انہیں یہ ہوتا ہے کہ ان کی تین سو کتاب مثلاً نکل جاتی ہے۔ وہ اگر رائلٹی دیتے ہیں تو فکشن رائٹر کو دیتے ہیں۔ شاعری بہت کم پڑھی جاتی ہے۔ شاعری کا ذوق بھی کم ہے اور شاعری کی خریداری بھی کم ہے۔ خریداری اگر ہے تو فکشن کی ہے۔ سفر نامے کی ہے ناول کی ہے تو اس لحاظ سے شاعری مار کھاتی ہے اور پبلشر کے لیے شاعری کو بیچنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تو وہ اپنے طریقے سے کرتے ہیں انہوں نے لائبریریوں سے ساز باز کی ہوتی ہے۔ اس طرح نکالتے ہیں دو تین سو کتابیں شاعر لے جاتا ہے رائلٹی میں اور پھر کوئی پتہ نہیں کہ وہ ایک ایڈیشن کے چار ایڈیشن چھاپ دیتا ہے۔ کوئی اس پر چیک یا پڑتال نہیں کر سکتا۔
سوال: اگر ایک ہی ایڈیشن فروخت ہوتا ہے تو پھر اتنے لوگ جان کیسے لیتے ہیں؟
ظفر اقبال: ہاں!!! نہیں کتاب بکتی ہے شاعری کی۔ یہ میری کلیات جو ہے یہ اتنی مہنگی کتاب ہے۔ میں آپ کو بتاؤں کہ فیصل آباد میں ایک مشاعرہ ہوا تھا مجھے انجم سلیمی کا فون آیا کہ ’ہم نئے گو شاعروں کا مشاعرہ کر رہے ہیں تو آپ اس کی صدارت کے لیے آئیں‘۔ میں نے ان سے کہا کہ ’کسی نئے شاعر کو بلاؤ مجھ بوڑھے کھوسٹ کو بلا رہے ہو‘۔ اس نے کہا کہ ’نہیں جناب ہماری نظر میں نئے بھی آپ ہیں، ماڈرن بھی آپ ہیں اور نوجوان بھی آپ ہیں اور آپ کو آنا پڑے گا‘۔ وہاں کراچی سے کوہاٹ تک کے کوئی چالیس شاعر آئے ہوئے تھے اور ان سب کا یہ بیان تھا کہ ہمارے پاس کلیات کی دونوں جلدیں ہیں اس وقت تک تیسری جلد نہیں چھپی تھی۔ ہم نے وہ خریدی ہوئی ہیں اور آپس میں حیران ہوتے ہیں کہ یہ بات ظفر صاحب نے کیسے کہہ دی ہے ہمیں تو یہ سوجھی نہیں۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ وہ مجھ سے کچھ کام لے رہے ہیں۔
سوال: اب آپ ہمیں اپنے بچپن کے بارے میں بتائیں؟
ظفر اقبال: بچپن کوئی خاص نہیں تھا۔ ایک تو ویسے بھی میں اپنے بچپن کی بہت سی باتیں بائی پاس کے بعد بھلا چکا ہوں۔ بلکہ لوگوں کے نام بھول جاتے ہیں، فون نمبر بھول جاتے ہیں۔ شکلیں کم و بیش یاد رہتی ہیں۔
سوال: آپ کتنے بھائی بہن تھے؟
ظفر اقبال: ہاں، ہم تین بھائی اور تین بہنیں تھے۔ مجھ سے چھوٹے دو بھائی فوت ہو چکے ہیں۔ مجھ سے چھوٹی دو بہنیں فوت ہو چکی ہیں۔ میں سب سے بڑا تھا۔ اب ایک میں ہوں اور ایک میری بہن ہے جو مجھ سے چھوٹی ہے۔
سوال: جب آپ نے شاعری شروع کی تو گھر والوں کا کیا ردِ عمل تھا؟
ظفر اقبال: ہاں، گھر میں کوئی شعر نہیں کہتا تھا اور نہ ہی شعر پسند کیا جاتا تھا۔ نہ ہی میری یہ حرکت پسند کی جاتی تھی، بس برداشت کی جاتی تھی کیوں کہ میں بڑا تھا اور ہو سکتا ہے کہ کچھ خدا خوفی بھی ان میں ہو کہ ایک کام یہ کرتا ہے تو چلو کرنے دو اگر ہمیں نہیں بھی پسند کرتے تو بھی ٹھیک ہے۔
سوال: شاعری نے آپ کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو کس حد تک متاثر کیا؟
ظفر اقبال: ہاں، بلکہ نہیں کیا ۔ یہ ٹھیک ہے کہ اگر میں یہ وقت ادھر نہ دیتا تو بہت بڑا وکیل ہوتا لیکن میں نے یہ قربانی دی کیوں کہ مجھے پتہ تھا کہ میں نے کچھ نہ کچھ کرنا ضرور ہے شاعری میں۔ تو اس لیے۔ وکالت کو بھی وقت دیتا تھا۔ محنت میں شروع سے ہی کرتا رہا ہوں۔ شاعروں کی طرح نہیں کہ کوئی کام نہیں کرنا۔
سوال: کبھی بیچ میں کوئی رنج کا وقفہ آیا۔ یہ لگا کہ اگر یہ نہ کرتا تو زیادہ اچھا ہوتا؟
ظفر اقبال: نہیں بالکل نہیں۔ کیوں کے میں اپنی سکیم کے مطابق، اپنی پسند کے مطابق، اپنے مزاج کے مطابق اور جو مروج اسالیب اور طریقۂ کار تھا اس کے حوالے سے میں سمجھتا تھا کہ تبدیلی ہونی چاہیے، یہ تو بیڑا غرق ہو رہا ہے سارا۔ غزل تو تیزی سے کلیشے میں تبدیل ہو رہی ہے ساری اور یہ ٹریش لکھا جا رہا ہے سارا۔ میں نے شمش الرحمٰن فاروقی کو خط لکھا کہ یہ جو آپ فلاں فلاں شاعروں کو چھاپتے ہیں تو یہ تو سب ٹریش لکھتے ہیں۔ یہ سب روٹین کی شاعری ہے اور انہوں نے چھاپا وہ اور اس کے ردِ عمل میں بڑے خط بھی آئے۔
سوال: آپ کے بچے آپ کی شاعری پڑھتے ہیں؟
ظفر اقبال: ہاں، پڑھتے ہیں۔
سوال: کیا رائے ہے ان کی؟ کبھی بات ہوتی ہے؟
ظفر اقبال: ہاں ہوتی ہے۔ دراصل وہ آفتاب تو خیر بہت چالاک آدمی ہے۔ وہ پڑھ کے رائے دیتا ہے۔ (آفتاب بڑا بیٹا) دوسرا، اس سے چھوٹا جو ہے، اس کا مسئلہ نہیں ہے شاعری لیکن جب وہ لوگوں کی رائے دیکھتا ہے تو اب اس نے میری شاعری پڑھنی بھی شروع کر دی ہے۔ جو سب سے چھوٹا ہے وہ صاحبِ ذوق ہے۔ اسے پتہ ہے کہ شعر کیا ہوتا ہے اور وہ شاعری کی کتابیں ذوق سے پڑھتا بھی ہے |
|
||||||||
Posted on October 14th, 2007 by adil
Filed under: General | No Comments »








