ZAFAR IQBAL _6

اپنی شاعری منسوخ بھی کر سکتا ہوں: ظفر اقبال
 
ظفر اقبال

بچپن، شاعری، زندگی، خاندان
سوال: رائلٹی کو جو صورتِ حال پاکستان میں ہے کیا آپ اس سے مطمئن ہیں؟
ظفر اقبال: دیکھیں رائلٹی کی صورت یہ ہے کہ جو معروف پبلشر ہیں وہ رائلٹی وائلٹی نقد نہیں دیتے عام طور سے۔ شاعر کو تو رائلٹی تو وہ ویسے بھی نہیں دیتے اگر دیں بھی تو کہتے ہیں کہ جو پیسے آپ کے بنتے ہیں ان کی آپ کتابیں اٹھا لیں۔ نقد پیسے نہیں دیں گے اس کا دوسرا فائدہ انہیں یہ ہوتا ہے کہ ان کی تین سو کتاب مثلاً نکل جاتی ہے۔ وہ اگر رائلٹی دیتے ہیں تو فکشن رائٹر کو دیتے ہیں۔ شاعری بہت کم پڑھی جاتی ہے۔ شاعری کا ذوق بھی کم ہے اور شاعری کی خریداری بھی کم ہے۔ خریداری اگر ہے تو فکشن کی ہے۔ سفر نامے کی ہے ناول کی ہے تو اس لحاظ سے شاعری مار کھاتی ہے اور پبلشر کے لیے شاعری کو بیچنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تو وہ اپنے طریقے سے کرتے ہیں انہوں نے لائبریریوں سے ساز باز کی ہوتی ہے۔ اس طرح نکالتے ہیں دو تین سو کتابیں شاعر لے جاتا ہے رائلٹی میں اور پھر کوئی پتہ نہیں کہ وہ ایک ایڈیشن کے چار ایڈیشن چھاپ دیتا ہے۔ کوئی اس پر چیک یا پڑتال نہیں کر سکتا۔

سوال: اگر ایک ہی ایڈیشن فروخت ہوتا ہے تو پھر اتنے لوگ جان کیسے لیتے ہیں؟
ظفر اقبال: ہاں!!! نہیں کتاب بکتی ہے شاعری کی۔ یہ میری کلیات جو ہے یہ اتنی مہنگی کتاب ہے۔ میں آپ کو بتاؤں کہ فیصل آباد میں ایک مشاعرہ ہوا تھا مجھے انجم سلیمی کا فون آیا کہ ’ہم نئے گو شاعروں کا مشاعرہ کر رہے ہیں تو آپ اس کی صدارت کے لیے آئیں‘۔ میں نے ان سے کہا کہ ’کسی نئے شاعر کو بلاؤ مجھ بوڑھے کھوسٹ کو بلا رہے ہو‘۔ اس نے کہا کہ ’نہیں جناب ہماری نظر میں نئے بھی آپ ہیں، ماڈرن بھی آپ ہیں اور نوجوان بھی آپ ہیں اور آپ کو آنا پڑے گا‘۔ وہاں کراچی سے کوہاٹ تک کے کوئی چالیس شاعر آئے ہوئے تھے اور ان سب کا یہ بیان تھا کہ ہمارے پاس کلیات کی دونوں جلدیں ہیں اس وقت تک تیسری جلد نہیں چھپی تھی۔ ہم نے وہ خریدی ہوئی ہیں اور آپس میں حیران ہوتے ہیں کہ یہ بات ظفر صاحب نے کیسے کہہ دی ہے ہمیں تو یہ سوجھی نہیں۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ وہ مجھ سے کچھ کام لے رہے ہیں۔

سوال: اب آپ ہمیں اپنے بچپن کے بارے میں بتائیں؟
ظفر اقبال: بچپن کوئی خاص نہیں تھا۔ ایک تو ویسے بھی میں اپنے بچپن کی بہت سی باتیں بائی پاس کے بعد بھلا چکا ہوں۔ بلکہ لوگوں کے نام بھول جاتے ہیں، فون نمبر بھول جاتے ہیں۔ شکلیں کم و بیش یاد رہتی ہیں۔

سوال: آپ کتنے بھائی بہن تھے؟
ظفر اقبال: ہاں، ہم تین بھائی اور تین بہنیں تھے۔ مجھ سے چھوٹے دو بھائی فوت ہو چکے ہیں۔ مجھ سے چھوٹی دو بہنیں فوت ہو چکی ہیں۔ میں سب سے بڑا تھا۔ اب ایک میں ہوں اور ایک میری بہن ہے جو مجھ سے چھوٹی ہے۔

سوال: جب آپ نے شاعری شروع کی تو گھر والوں کا کیا ردِ عمل تھا؟
ظفر اقبال: ہاں، گھر میں کوئی شعر نہیں کہتا تھا اور نہ ہی شعر پسند کیا جاتا تھا۔ نہ ہی میری یہ حرکت پسند کی جاتی تھی، بس برداشت کی جاتی تھی کیوں کہ میں بڑا تھا اور ہو سکتا ہے کہ کچھ خدا خوفی بھی ان میں ہو کہ ایک کام یہ کرتا ہے تو چلو کرنے دو اگر ہمیں نہیں بھی پسند کرتے تو بھی ٹھیک ہے۔

سوال: شاعری نے آپ کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو کس حد تک متاثر کیا؟
ظفر اقبال: ہاں، بلکہ نہیں کیا ۔ یہ ٹھیک ہے کہ اگر میں یہ وقت ادھر نہ دیتا تو بہت بڑا وکیل ہوتا لیکن میں نے یہ قربانی دی کیوں کہ مجھے پتہ تھا کہ میں نے کچھ نہ کچھ کرنا ضرور ہے شاعری میں۔ تو اس لیے۔ وکالت کو بھی وقت دیتا تھا۔ محنت میں شروع سے ہی کرتا رہا ہوں۔ شاعروں کی طرح نہیں کہ کوئی کام نہیں کرنا۔

سوال: کبھی بیچ میں کوئی رنج کا وقفہ آیا۔ یہ لگا کہ اگر یہ نہ کرتا تو زیادہ اچھا ہوتا؟
ظفر اقبال: نہیں بالکل نہیں۔ کیوں کے میں اپنی سکیم کے مطابق، اپنی پسند کے مطابق، اپنے مزاج کے مطابق اور جو مروج اسالیب اور طریقۂ کار تھا اس کے حوالے سے میں سمجھتا تھا کہ تبدیلی ہونی چاہیے، یہ تو بیڑا غرق ہو رہا ہے سارا۔ غزل تو تیزی سے کلیشے میں تبدیل ہو رہی ہے ساری اور یہ ٹریش لکھا جا رہا ہے سارا۔ میں نے شمش الرحمٰن فاروقی کو خط لکھا کہ یہ جو آپ فلاں فلاں شاعروں کو چھاپتے ہیں تو یہ تو سب ٹریش لکھتے ہیں۔ یہ سب روٹین کی شاعری ہے اور انہوں نے چھاپا وہ اور اس کے ردِ عمل میں بڑے خط بھی آئے۔

سوال: آپ کے بچے آپ کی شاعری پڑھتے ہیں؟
ظفر اقبال: ہاں، پڑھتے ہیں۔

سوال: کیا رائے ہے ان کی؟ کبھی بات ہوتی ہے؟
ظفر اقبال: ہاں ہوتی ہے۔ دراصل وہ آفتاب تو خیر بہت چالاک آدمی ہے۔ وہ پڑھ کے رائے دیتا ہے۔ (آفتاب بڑا بیٹا) دوسرا، اس سے چھوٹا جو ہے، اس کا مسئلہ نہیں ہے شاعری لیکن جب وہ لوگوں کی رائے دیکھتا ہے تو اب اس نے میری شاعری پڑھنی بھی شروع کر دی ہے۔ جو سب سے چھوٹا ہے وہ صاحبِ ذوق ہے۔ اسے پتہ ہے کہ شعر کیا ہوتا ہے اور وہ شاعری کی کتابیں ذوق سے پڑھتا بھی ہے
شاعری، زندگی، خاندان

Zafar Iqbal -7

اپنی شاعری منسوخ بھی کر سکتا ہوں: ظفر اقبال
 
ظفر اقبال

ان گھڑ مقلدین کا سیلاب
سوال: عام طور پر اب آپ اپنا دن کیسے گذارتے ہیں؟
ظفر اقبال: آج کل تومیں تقریباً فارغ ہوں میری موومنٹ اور ایکٹیویٹی بھی زیادہ نہیں ہے۔ اگر میں جلدی سو جاؤں تو ڈھائی تین بجے میری آنکھ کھل جاتی ہے پھر مجھے نیند نہیں آتی۔ پھر صبح کے ایک قریب ایک جھونکا سا اور آتا ہے اور میں کوئی ایک ڈیڑھ گھنٹہ اور سو لیتا ہوں۔ میری نیند کوئی چار ساڑھے چار گھنٹے کی ہے جو پوری ہو جاتی ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں بلکہ میرا ایک شعر ہے:

اور کیا چاہیے کہ اب بھی ظفر
بھوک لگتی ہے نیند آتی ہے

اب یہ کوئی شعر کا موضوع تو نہیں ہے لیکن میں ایسے ایسے موضوعات پر شعر کہے ہیں کہ جنہیں اس سے پہلے نہیں چھوا گیا تھا۔

سوال: اس سب کے بعد اب آپ کیسے کہیں گے کہ آپ غزل میں کیا تبدیلی لائے؟
ظفر اقبال: میں اس بات پر تو کبھی غور نہیں کیا کہ میں یہ بات بتاؤں اور اس بات کا دعویٰ کروں لیکن جو میرے مقلدین ہیں وہی بتا سکتے ہیں کہ اگر کوئی تبدیلی آئی ہے تو وہی کر رہے ہیں وہ۔ بلکہ ’ادبیات‘ (پاکستان میں اکادمی ادبیات کا رسالہ) کا جو تازہ پرچہ آیا ہے، وہ دیکھا ہے آپ نے؟ اس میں آصف فرخی کا مضمون ہے۔ وہ غیر متعلق ہے لیکن غزل کا اس نے ذکر کیا ہے۔ اور اس نے لکھا ہے کہ ظفر اقبال کے ان گھڑ مقلدین کا ایک سیلاب جو ہے وہ بھی ایک خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔

سوال: ان گھڑ؟
ظفر اقبال: ان گھڑ ، یعنی جو ابھی تیار نہیں ہوتے اور ظفر اقبال کی نقل شروع کر دیتے ہیں اور مار کھا جاتے ہیں۔

سوال: میں یہ کہہ رہا تھا کہ پہلے غزل کی تعریف یہ کی جاتی تھی کہ ’غزل عورتوں سے باتیں کرنے کا نام ہے‘۔ اس میں آپ کیا تبدیلی لائے ہیں؟
ظفر اقبال: دیکھیں یہ غزل کا اساسی موضوع ہے عشق جو ہے اور محبت ہے اس کے بغیر تو غزل نہیں کہی جا سکتی۔ کہیں کہیں آپ اس میں تڑکا لگا دیں عشقِ حقیقی کا لیکن ہم نے اس کے موضوعات کو پھیلا دیا ہے۔ ہاں! ایک بات میں خاں طور پر نوٹ کروانا چاہتا ہوں کہ جہاں تک میرے لب و لہجے کا سوال ہے تو میں اسے تبدیل کرتا رہتا ہوں۔ میں تو کہیں ٹک کر بیٹھتا ہی نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کے میرا کام زیادہ تر ایکڈیمک ہے۔ میری شاعری مشاعرے کی شاعری نہیں ہے۔ نہ یوں ہے کہ میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے شعر کہتا ہوں۔ لوگ قاری کو راغب کرتے ہیں، میں قاری کو اشتعال دلاتا ہوں باقاعدہ۔ بعض اوقات۔ ایک چیلنج کے طور پر کہ تیری ایسی کی تیسی دیکھو یہ۔

سوال: مقبولیت حاصل کرنے کا کام باقی ہے؟
ظفر اقبال: نہیں۔ میرا مطلب ہے کہ بعض لوگ صرف مقبولیت حاصل کرنے کے لیے شعر کہتے ہیں اب اگر میری کوئی مقبولیت ہے تو وہ خوامخواہ ہی آ گئی ہے میں تو اس کے لیے کوئی تگ و دو نہیں کی۔

سوال: یہ بتائیں کہ اب بھی آپ کسے زیادہ پڑھتے ہیں یا پڑھنے میں ترجیح دیتے ہیں؟
ظفر اقبال: غالب پر تان ٹوٹتی ہے سبھی کی، میری بھی اُسی پر ٹوٹتی ہے۔ میر صاحب کے ہاں کہیں کہیں، کوئی دو ایکڑ کے فاصلے پر، کوئی شعر کہیں نظر آتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ باقی سارا بھُس بھرا ہوا ہے۔ وہ اس طرح کہ ان وقتوں میں شعر جیسے کہا جاتا تھا اور جس طرح شعر کی تحسین کی جاتی تھی، آج نہ اس طرح شعر کہا جاتا ہے اور نہ اس کی تحسین کی جاتی ہے۔ لیکن غالب کا کمال یہ کہ وہ ماڈرن ہے اور غالب تک آتے آتے مصرعے رواں اور برجستہ ہو گیا تھا۔ غالب نے اس سے کام لیا اور اس طرح غالب سلیکٹیو زیادہ ہے میر کی نسبت لیکن یہ فراق صاحب ہیں، تو شروع میں میں نے ان کے مجموعے دیکھے تھے لیکن اب دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا میں انہیں دیکھنے کی۔ ان کے ہاں بھی یہ ہے کہ کہیں کہیں شعر کوئی نظر آتا ہے۔ وہ بھی میر صاحب ہی کہ پیرو ہیں لیکن جو میر کا پیرو ہے میر اس کا کافی حصہ کھا جاتا ہے۔ جس طرح ناصر کاظمی کا کھا گیا پھر ناصر کاظمی تو فراق سے ہوتا ہوا میر کا پیرو ہوا۔

سوال: اس کے علاوہ فکشن؟
ظفر اقبال: فکشن میں پڑھتا نہیں ہوں۔ میں انتظار صاحب کی فکشن اس لیے پسند کرتا ہوں کہ وہ نثر بہت عمدہ لکھتے ہیں۔ ایک مزا ہے ان کی نثر میں۔ باقی میں فکشن کی طرف زیادہ متوجہ نہیں ہوا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ’اٹ از ناٹ مائی ڈش‘ دوسرا یہ کہ اگر میں فکشن پڑھتا رہتا تو یہ سارا کام کس نے کرنا تھا لیکن آصف فرخی کا فون آیا کہ انتظار حسین کی کتاب آئی ہے ’نئی پرانی کہانیاں‘ آپ اس پر لکھیں۔ میں کہا کہ مجھے کیا پتہ ہے فکشن کا۔ اس نے کہا کہ نہیں نہیں آپ ضرور لکھیں جیسا بھی ہے۔ خیر میں نے انتظار صاحب کو فون کیا، انہوں نے مجھے کتاب بھجوا دی۔ اس سے پہلے میرے پاس محمد سعید شیخ کی کہانیوں کا مجموعہ آیا ہوا تھا۔ میں نے دونوں کو بھگتا دیا اس میں۔ کافی طویل پانچ سات صفحے کا مضمون ہے۔ اس میں، میں نے انتظار صاحب کے بارے میں خاص طور پر یہ بات لکھی کہ یہ جو کہانیاں ہیں، پرانی کتھاؤں کے جو اساطیری حوالے ہیں یا دیو مالائیں ہیں، ہندوستان کا جو کلچر ہے خاص اس سے متعلق ہیں۔ من و عن انتظار صاحب نے اس میں بھر دیا ہے تو اس میں انتظار صاحب کا کیا کمال ہے۔ اس کوئی تبدیلی نہیں کی۔ یہ سلیکشن کیا ہے۔ فلاں جگہ سے فلاں چیز اٹھا لی اور فلاں جگہ سے فلاں چیز اٹھا لی اور اپنی کہانیاں کہہ کر چھاپ دیا۔ اور پھر نئی پرانی کہانیاں، یہ نئی کہاں، یہ تو سب پرانی ہیں۔

سوال: اور آپ سے پہلے کی اور بعد کی شاعری میں، نظم کی شاعری میں خاص طور پر؟
ظفر اقبال: نظم میں تو لوگ ہیں۔ ن م راشد ہیں، فیض ہیں، میرا جی ہیں سب سے پہلے۔ مجید امجد بھی ہیں خاصی حد تک۔
ان گھڑ مقلدین کا سیلاب

Zafar Iqbal

اپنی شاعری منسوخ بھی کر سکتا ہوں: ظفر اقبال
 
ظفر اقبال

پانچ غزلیں
٭٭٭
یہاں سب سے الگ سب سے جدا ہونا تھا مجھ کو
مگر کیا ہو گیا ہوں، اور، کیا ہونا تھا مجھ کو

ابھی اک لہر تھی جس کو گزرنا تھا سروں سے
ابھی اک لفظ تھا میں، اور، ادا ہونا تھا مجھ کو

پھر اس کو ڈھونڈنے میں عمر ساری بیت جاتی
کوئی اپنی ہی گم گشتہ صدا ہونا تھا مجھ کو

پسند آیا کسی کو میرا آندھی بن کے اٹھنا
کسی کی رائے میں بادِ صبا ہونا تھا مجھ کو

وہاں سے بھی گزر آیا ہوں خاموشی سے اب کے
جہاں اک شور کی صورت بپا ہونا تھا مجھ کو

در و دیوار سے اتنی محبت کس لیے تھی
اگر اس قید خانے سے رہا ہونا تھا مجھ کو

میں اپنی راکھ سے بے شک دوبارہ سر اٹھاتا
مگر اک بار تو جل کر فنا ہونا تھا مجھ کو

میں اندر سے کہیں تبدیل ہونا چاہتا تھا
پرانی کینچلی میں ہی نیا ہونا تھا مجھ کو

ظفر، میں ہو گیا کچھ اور، ورنہ، اصل میں تو
برا ہونا تھا مجھ کو، یا بھلا ہونا تھا مجھ کو

٭٭٭
دور رہ کر نہ اسے پاس بلانے سے کیا
میں نے اندازہ محبت کا بہانے سے کیا

اس کے اپنے ہی خیالات پریشاں تھے بہت
جس نے آغاز مجھے خواب دکھانے سے کیا

کچھ تسلی مجھے اندازِ تغافل سے ہوئی
کچھ یقین میں نے مزید اس کے نہ آنے سے کیا

شرکت کار کا اک فیصلہ ہم دونوں نے
درمیاں میں کوئی دیوار اٹھانے سے کیا

کام کرنا تھا جو ہم نے کبھی خاموشی سے
اس قدر وہ بھی یہاں شور مچانے سے کیا

عکس اس شوخ کے باہر تک اسے چھوڑنے آئے
گزر اس نے جو کبھی آئینہ خانے سے کیا

کارِ دنیا میں بھلا بھی نہ سکے ہم تجھ کو
آخر اتنا بھی ترے یاد دلانے پہ کیا

شاعری تھی یہ کسی اور زمانے کے لیے
میں نے مربوط اسے اپنے زمانے سے کیا

ساز گار آب و ہوا ہی نہ ہوئی جس کو، ظفر
تجربہ ہم نے وہی فصل اُگانے سے کیا

٭٭٭
چشمِ روزن نہ کسی در کی طرف سے آئی
روشنی خواب کی باہر کی طرف سے آئی

اک ہیولیٰ سا کسی طُرفہ نمائش سے اٹھا
اک ہوا سی کسی منظر کی طرف سے آئی

وہی شکوہ کبھی مجھ کو بھی رہا ہے تجھ سے
جو شکایت مجھے اکثر کی طرف سے آئی

اندر اندر میرے ہو سکتی ہے چنگاری بھی
یہ اشارت اسی پتھر کی طرف سے آئی

وار خالی ہی بظاہر تو دیا تھا لیکن
ایک آواز مرے سر کی طرف سے آئی

ابر وہ جانبِ صحرا سے دوبارہ نہ اٹھا
وہ ہوا پھر نہ سمندر کی طرف سے آئی

سوبھی میں نے اسے اسکی ہی طرف سے سمجھا
جو مہک اس کے برابر کی طرف سے آئی

مدتیں ہو گئیں، آتی نہیں چہرے پہ چمک
کبھی آئی بھی تو اندر کی طرف سے آئی

آئی ہے وہ بھی کہیں اس کے ذریعے سے، ظفر
جو بلا میرے مقدر کی طرف سے آئی

٭٭٭
لفظ پتوں کی طرح اڑنے لگے چاروں طرف
کیا ہوا چلتی رہی آج مرے چاروں طرف

میں نے خود کو جو سمیٹا تو اُسی لمحے میں
اور بھی چاروں طرف پھیل گئے چاروں طرف

رک گئے ہیں تو یہ دریا میرے اندر ہی رکے
چل پڑے ہیں تو اُسی طرح چلے چاروں طرف

اب کہ ہوتا ہی نہیں میرا گزارا ان پر
چاہیے ہیں مجھے اس بار نئے چاروں طرف

ہیں بھی ایسے کہ فقط مجھ کو نظر آتے ہیں
ایک ہی دوسرے میں الجھے ہوئے چاروں طرف

میں ہی معدوم سا ہوتا گیا رفتہ رفتہ
ورنہ منظر تو فلک بوس رہے چاروں طرف

پہلے تو ایک طرف بیٹھ گیا وہ آ کر
اور پھر ایک طرف اس نے کیے چاروں طرف

کوئی اطراف کی اب فکر اُسے کیا ہو گی
ساتھ ہی ساتھ جو پھرتا ہے لیے چاروں طرف

آسماں پر کوئی تصویر بناتا ہوں، ظفر
کہ رہے ایک طرف اور لگے چاروں طرف

٭٭٭
بظاہر صحت اچھی ہے جو بیماری زیادہ ہے
اسی خاطر بڑھاپے میں ہوس کاری زیادہ ہے

چلے گا کس طرح سے کاروبارِ شوق اس صورت
رسد کچھ بھی نہیں ہے اور طلبگاری زیادہ ہے

محبت کام ہے جس طرح کا بس دیکھتے جاؤ
رکا رہتا بھی ہے اکثر مگر جاری زیادہ ہے

ہمیں خود بھی یقیں آتا نہیں اس کا جو یہ ہم پر
گرانباری کی نسبت سے سبکساری زیادہ ہے

سراغ اس کا کہیں اندر تو کچھ ملتا نہیں بے شک
یہ حالت وہ ہے جو ہم پر ابھی طاری زیادہ ہے

اٹھا سکتے نہیں جب، چوم کر ہی چھوڑنا اچھا
محبت کا یہ پتھر اس دفعہ بھاری زیادہ ہے

حفاظت ہی ہمارا مسئلہ تھا روزِ اول سے
سو اپنے ارد گرد اب چار دیواری زیادہ ہے

عمارت یہ مکمل ہونے والی ہی نہیں لگتی
کہ اس تعمیر میں کچھ رنگِ مسماری زیادہ ہے

ضروری ہے تو کر دیں گے ظفر تردید بھی جاری
بیانِ عشق اپنا اب کے اخباری زیادہ ہے

٭٭٭
امیدِ عاقبتِ کار کے برابر ہے
یہ اک درخت کہ دیوار کے برابر ہے

زیادہ دور نہیں امن و جنگ آپس میں
یہ فاصلہ تری تلوار کے برابر ہے

تجھے خبر نہیں یہ ایک بار کا انکار
ہزار بار کے اقرار کے برابر ہے

کھلی ہے اور کوئی گاہک ادھر نہیں آتا
دکانِ خواب کہ بازار کے برابر ہے

ہو اس کے بعد زمانوں کا کیا حساب کتاب
جب ایک لمحہ لگاتار کے برابر ہے

میں اس لیے بھی زباں کھولتا نہیں کہ ابھی
سکوت ہی یہاں اظہار کے برابر ہے

ہوں اتنا بے سروساماں کہ اس دفعہ مجھ کو
یہ برگِ سبز بھی اشجار کے برابر ہے

مجھے پسند ہے جی جان سے یہ عیبِ سخن
جہاں جہاں میرے معیار کے برابر ہے

وہی پسینہ پسینہ ہوں رات دن، کہ ظفر
ہوا یہاں میری رفتار کے برابر ہے

٭٭٭
پانچ غزلیں

کشور ناہید کے ساتھ ایک شام

UrduManzil Group Photo

 UrduManzil Group Photo Caption

Courtesy of UrduManzil.com

Two Ghazals Courtesy UrduManzil.com

Adil Mansuri Headshot

 Adil Mansuri
Box 922
Hoboken, NJ 07030-0922 USA
Residence: +1 201 868 6991
Email: adil@mansuri.com

 Adil Mansuri - Ghazal2

Adil Mansuri - Ghazal1

ગઝલ - આદિલ મન્સૂરી

  ગઝલ  -  આદિલ મન્સૂરી

બધાયે સામટા ખખડી રહ્યા છે
આ જર્જર શબ્દ જૂના થઈ ગયા છે

સમયની ધૂળના છે થર ઉપર થર
ઉપર એકાંતનાં પગલાં પડ્યાં છે

ને ઊંડે મૂળમાં લાગ્યો છે લૂણો
ને ચારે ખૂંટ પાયા હચમચ્યા છે

કરાવો રંગ ને રોગાન નવતર
બધેબધ પોપડા ઉખડી રહ્યા છે

અનર્થોનાં ભટકતા ચામાચિડિયા
નિરવતા પૂર પડઘા ઓગળ્યા છે

પહેરણ જિર્ણ જૂનું લીરેલીરા
ને ઉપર થીગડાં આદિલ નવાં છે

ગઝલ - આદિલ મન્સૂરી

 ગઝલ  -  આદિલ મન્સૂરી

તણખલા શબ્દનાં તૂટી ગયાં શું
ને પરપોટા બધા ફૂટી ગયા શું

હવે માથે કોઈ મીંડું ન મળતું
અનુસ્વારો બધા ખૂટી ગયા શું

અરે આ સૂર્યનું તૂટેલ પૈડું
અને અશ્વો બધા છૂટી ગયા શું

ચહેરા કોઈ દર્પણમાં ન ફરકે
પ્રતિબિંબો બધાં ફૂટી ગયાં શું

હ્દય વેરાન ઉજ્જડ પાટનગરી
કે ઈચ્છાના દળૉ લૂંટી ગયા શું

રદીફ આધાર શોધે શૂન્યતામાં
ખરેખર કાફિયા ખૂટી ગયા શું

ગઝલટાપુનું આ એકાંત આદિલ
બધાયે સેતુઓ તૂટી ગયા શું

ગઝલ આદિલ મન્સૂરી

 ગઝલ  આદિલ મન્સૂરી

આપણે સાથે ઊભેલા ફ્રેમમાં
કાચની પાછળ મઢેલા ફ્રેમમાં

ક્યારના યે સાવ જોડેજોડ ને
એકબીજાને અઢેલા ફ્રેમમાં

ચિત્રવત જકડાયલા પકડાયલા
કેટલા દસકા પહેલા ફ્રેમમાં

બાળપણની આંગળી ઝાલી ઊભા
બેફિકર ને મેલા ઘેલા ફ્રેમમાં

થાક ઊતરે તે પછી ચાલ્યા જજો
બે ઘડી બેસો પહેલા ફ્રેમમાં

ભીંતનાં એકાંતને તાક્યા કરો
મીટ માંડીને અકેલા ફ્રેમમાં

ઓળખાતા પણ નથી આદિલ તમે
વાળ ને દાઢી વધેલા ફ્રેમમાં

ગઝલ - આદિલ મન્સૂરી

 ગઝલ  -  આદિલ મન્સૂરી

પેનથી લીટા કરે છે ભીંત પર
બાળ લીલા વિસ્તરે છે ભીંત પર

ભેંસ જેવું ચીતરે છે ભીંત પર
ચીતરામણ ભાંભરે છે ભીંત પર

બત્તીની પાસે પતંગા કૂદતા
ને ગરોળી પણ ફરે છે ભીંત પર

ખુલ્લી બારીમાંથી ફૂંકાતો પવન
કંપ કૈં કેલેન્ડરે છે ભીંત પર

કાચબરણીમાં સરકતી માછલી
એનો પડછાયો તરે છે ભીંત પર

પોપડા ઉખડી રહ્યા ભૂતકાળના
રંગ મોસમના ખરે છે  ભીંત પર

ચૂનાની જુની સફેદી સાથ લઈ
વીતેલા દિવસ સરે છે ભીંત પર

જેનાથી વસતી હતી આદિલ અહીં
ફ્રેમ થઈ લટક્યા કરે છે ભીંત પર

ગઝલ - આદિલ મન્સૂરી

 ગઝલ -  આદિલ મન્સૂરી

ખાલી ખાલી અવકાશોમાં ઝબકોળી
પૃથ્વીને ગોફણમાં લઈને ફંગોળી

સૂરજમાં ધગધગતા રણને વિસ્તાર્યું
સાત સમંદર વચ્ચે બોળી તરબોળી

તાજા માજા લોહીથી શણગારે છે
હાથની મેંદી ને આંગણની રંગોળી

કોઈ આપે લોટ અને કોઈ બ્રહ્માંડ
દ્વારે દ્વારે ફરતા સાધુ લૈ ઝોળી

એકલતા જાણે કોઈ દીવાલે ચીન
એકલાહાથે એ દીવાલને જૈ ધોળી

હકડેઠઠ્ઠ ઈચ્છાઓનું જંગલ દિલમાં
આદિલ એકેક ઈચ્છા પૃથ્વીથી પહોળી