ZAFAR IQBAL -2
![]() |
|
![]() غزل ایک میکانکی عمل
سوال: غزل کے تخلیقی عمل کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
ظفر اقبال: دیکھیے غزل کے لیے میرا ایک اپنا طریقۂ واردات ہے۔ وہ یہ ہے کہ میں غزلوں کے سیٹ بناتا ہوں، مثلاً ایک غزل کہی ہے میں نے ایک زمین میں، تو اس کا قافیہ بدل کر میں نے ایک اور غزل کہی ہے۔ اگر اس میں اور قافیے نکلتے ہیں تو میں نے اور بھی کہی ہیں۔ میری دس دس بارہ بارہ غزلیں کر کے اس طرح ’سویرا‘ میں چھپتی رہی ہیں۔ اس سے مجھے ایک تو یہ سہولت رہتی ہے کہ مجھے نئی غزل کے لیے زمین نہیں تلاش کرنی پڑتی نمبر ایک، نمبر دو قافیے کے جو ویری ایشن اور امکانات ہیں ان کو برائے کار لانے میں مجھے مدد ملتی ہے۔ یہ تو میرا طریقۂ کار ہے۔
سوال:غزل کیسے کنسیو، محسوس یا شروع کرتے ہیں یا کہتے ہیں؟
ظفر اقبال: نہیں، میں عرض کروں کہ غزل کو مجموعی طور پر کنسیو نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات کہنے میں مجھے کوئی عار نہیں ہے کہ غزل ایک میکانیکل پراسس ہے۔ یہ قافیے کی مدد سے آگے چلتی ہے۔ قافیہ آپ کو سپورٹ کرتا ہے، آپ کو مضمون سُجھاتا ہے۔ دوسری بات میں اس طرح سے کہتا ہوں، جس میں آپ کی بات کا جواب بھی آ جائے گا کہ غزل کا ہر شعر دو مصرعوں کی نظم ہوتا ہے۔ اگر منیر نیازی کی نظم ایک مصرعے کی ہو سکتی، جس کا عنوان اس مصرعے سے بھی بڑا ہے تو دو مصروں کی نظم کیوں نہیں ہو سکتی؟ اور خاص طور پر غزل کی سہولت یہ ہے کہ رسالوں میں آپ مطلع پڑھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ آپ نے غزل پوری پڑھنی ہے یا آگے چلا جانا ہے۔ جب کہ نظم کے مسائل میں یہ بھی ہے کہ ڈھائی سو مصرعوں کی ہے، تو، جب تک آپ اسے پورا نہ پڑھیں آپ اس پر رائے نہیں دے سکتے۔ نمبر تین اعجاز اور اختصار جو ہے یہ بھی غزل ہی کی ایجاد اور ریکمنڈیشن ہے۔ یہ جو غزل کی ہنر مندی، اوصاف اور خوبیاں ہیں، یہ ان میں شامل ہے کہ کم سے کم لفظوں میں مدعا بیان کیا جائے۔ میرا ایک شعر بھی ہے:
کم سے کم لفظ ہیں ظفر درکار اسی لیے میں نے افتخار جالب کو اور دوسروں کو لسانی تشکیلات پر کہا تھا کہ یہ ٹیلی گرافک لینگویج ہے۔ اس میں سے آپ نے بہت سی چیزیں منہا کر دی ہیں، کہیں سے مصدر نکال دیا ہے تو کہیں سے فعل نکال دیا ہے، تو یہ کام پہلے بھی ہو چکا ہے ٹیلی گرافک لینگویج میں۔ آپ تین لفظوں میں چار سطروں کا مضمون لکھ سکتے ہیں۔ ایک پیغام کی ترسیل کر سکتے ہیں لیکن نہ تو افتخار جالب نے، نہ ہی ان کے کسی پیش رو جیمس جوائس وغیرہ نے، جن کا حوالہ وہ بار بار دیتے ہیں، کسی نہ بھی یہ بات تسلیم نہیں کی۔ |
|
||||||||
Posted on October 14th, 2007 by adil
Filed under: General



Leave a Reply