ZAFAR IQBAL - 3
![]() |
|
تخلیقی قوت یا پیرایۂ اظہار
سوال: لیکن یہ جو آپ نے زبان کے ساتھ کیا ہے یا آپ کہتے ہیں کہ تجربہ کیا ہے یا اسلوب اختیار کیا ہے۔ آپ اس سے مطمئن ہیں؟
ظفر اقبال: مطمئن اس لیے کہ میں نے اس سے بہت کام لیا۔ میرے پاس کوئی گیدڑ سنگھی اس کے علاوہ نہیں ہے جس کی وجہ سے مجھے یہ شہرت یا عزت یا محبت لوگوں کی ملی ہے یا ایک امتیاز کہا جاتا ہے کہ مجھے ہے۔ وہ اسی وجہ سے ہے کہ میں نے زبان کو الٹ پلٹ کر دیکھا ہے، کیوں کہ زبان ہی ہے جو ہمارا ہتھیار ہے اور اسی سے ہم سارا کام چلاتے ہیں اپنا۔ غزل جو تیزی سے کلیشے کی طرف بڑھتی جا رہی ہے، بلکہ نظم کا بھی یہی حال ہے۔ تو اس کا یہی علاج ہے۔ زبان کی اگر آپ ہئیت تبدیل کریں گے تو غزل نہیں رہے گی۔ لوگوں نے کوشش کی ہے: آزاد غزل، مکالماتی غزل، فلاں غزل، سب ٹریش ہے۔ غزل کو البتہ اندر سے تبدیل کر سکتے ہیں۔ غزل باہر سے تبدیل نہیں ہو سکتی۔ نہ اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ غزل کو اندر سے تبدیل کیا جا سکتا ہے اور وہی میں نے کرنے کی کوشش کی ہے۔ لفظ آپ کے پاس ایک بنیاد ہے اور لفظ کو الٹ پلٹ کر دیکھنا چاہیے۔ اس کے اسرار و رموز کیا ہیں اس کے اور معنی کیا نکلتے ہیں یا یہ کہاں کھڑا ہے یا اسے تھوڑا سا تبدیل کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ تبدیل بھی نہیں لفظ کو ذرا مختلف انداز سے استعمال کرنے کی بات ہے۔ میں لکھ چکا ہوں کہ اصل بات لفظ کا غیر معمولی استعمال ہے۔ بہت سے کمالات وہ بھی کر جاتا ہے۔
سوال: شاید اسی لیے افتخار جالب آپ کو سراہتے تھے اور انہوں نے آپ کا دیباچہ بھی لکھا؟
ظفر اقبال: افتخار جالب میرے بڑے اچھے دوست بھی تھے۔ لاء کالج میرے کلاس فیلو تھے۔ وہاں ہم نے پہلی بار لاء کالج کا میگزین نکالا ’میزان‘ کے نام سے۔ جس کا میں ایڈیٹر تھا اور افتخار جالب نائب مدیر تھے اردو سیکشن کے۔ انہوں نے دیباچہ لکھا ’گل آفتاب کا اور میرا خیال ہے کہ آج تک میری کتابوں کے جو دیباچے لکھے گئے ہیں ان میں وہ سب سے عمدہ دیباچہ ہے۔ اس لیے نہیں کہ اس میں میری تعریف کی گئی ہے۔ تعریف تو ہر دیباچے میں ہوتی ہے بلکہ اس لیے کے اس میں ان جو اینالیسس (تجزیہ) ہے وہ بڑا ریویلنگ ہے۔
سوال: یہ بتائیں کہ آپ کے ہاں جو اظہار کا جو عمل ہے اس میں آپ اپنے تخلیقی عمل کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں یا دسترس اور مہارت کو؟
ظفر اقبال: میں کئی جگہ پہلے بھی اس کا جواب دے چکا ہوں اور اس پر لکھنا یا کچھ کہنا مجھے پسند بھی ہے۔ اصل بات یہ کہ میں موضوع کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ بیس سال پہلے جب کشور ناہید ’ماہِ نو‘ کی ایڈیٹر ہوا کرتی تھی اس میں میری ایک غزل چھپی تھی:
لکھیے تو غزل کچھ ایسی بھی اس کا دوسرا شعر تھا: مضمون کوئی باندھیں گے نیا اس سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مضمون کو میں کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ میں پیرایۂ اظہار کو اہمیت دیتا ہوں۔ افتخار عارف کہتے ہیں کہ بات کچھ بھی نہیں ہوتی اور آپ شعر بنا دیتے ہیں۔ بہت بڑا مضمون بھی اگر ہو اور اُسے آپ شعر میں نظم کریں، موزوں کریں لیکن اگر وہ شعر نہیں بنتا تو اس کا کیا فائدہ اس موضوع کا؟ یہی بات بہتر ہے کہ آپ اُسے نثر میں کہیں۔ غزل کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ شعر کا شعر بننا بہت ضروری ہے۔ شعر میں ایک ایسا طلسم ہوتا ہے جسے میں ڈیفائن (تعریف) نہیں کر سکتا۔ لوگ شعر گوئی اور اور ورسیفیکیشن (منظوم کرنے) میں فرق کو نہیں سمجھتے۔ جو کچھ ہو رہا ہے، پچانوے فیصد لوگ تو ورسیفیکیشن کر رہے ہیں۔ موزوں کر رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ شاعری کر رہے ہیں لیکن وہ شاعری نہیں ہے۔ یہ میرا تھیسس ہے میں اس پر لکھتا ہوں، اس پر میں بولتا ہوں، اس پر میں اظہار کرتا ہوں۔ مجھے پوچھا گیا تھا: انگارے والے ظفر اقبال نمبر نکال رہے ہیں، انٹرویو میں، کہ احمد ندیم قاسمی کی شاعری کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا ندیم قاسمی صاحب ہم سب کے محسن ہیں۔ ایک چھتنار درخت کی سی ان کی حیثیت ہے لیکن مجھے ان کی شاعری نے کبھی متاثر نہیں کیا۔ ان کا المیہ یہ ہے کہ ان کا پیرایۂ اظہار کوئی پچاس ساٹھ سال پُرانا ہے۔ وہ سکہ اب بازار میں نہیں چلتا۔ ان کے کئی پیرو کار اور نیازمند ایسے ہیں جن کا وہی پیرایۂ اظہار ہے۔ تو پیرایۂ اظہار شعر کو شعر بناتا ہے۔ |
|
||||||||
Posted on October 14th, 2007 by adil
Filed under: General


Leave a Reply