ZAFAR IQBAL - 4
![]() |
|
مراکز کی نسبت مفصل
سوال: تو کیسے الگ کرتے ہیں آپ پیرایۂ اظہار کو اور نفسِ مضمون کو؟
ظفر اقبال: دیکھیں نفسِ مضمون جو ہے وہ بذاتِ خود زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ آپ کا پیرایۂ اظہار جس کے بننے میں الفاظ کا، الفاظ کی دروبست کا، الفاظ کی ترتیب کا اور الفاظ کے استعمال کا زیادہ دخل ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے جو یہ لب و لہجہ بنا رکھا ہے اور اتنے مقلدین ہیں اس کے تو آپ اس پر زیادہ زور دیتے ہیں اور آپ پسند بھی وہی زیادہ کرتے ہیں۔ تو میں کہتا ہوں کہ قدرتی بات ہے کہ ہر آدمی اور ہر شاعر وہی لب و لہجہ پسند کرے گا جس لب و لہجے میں وہ خود بات کرتا ہے، شعر کہتا ہے۔ کیوں کہ اگر اسے وہ پسند نہ ہو تو اس میں شعر نہ کہے وہ کوئی اور لب و لہجہ اختیار کرے لیکن اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ یہ صرف میرے لب و لہجے کی بات نہیں ہے کئی اور بھی ہیں جن کا اپنا لب و لہجہ ہے لیکن مجھے اچھے لگتے ہیں وہ۔ اس لیے کہ وہ ذرا مختلف طریقے سے شعر کہتے ہیں۔
سوال: آپ بتا سکیں گے ایسے کچھ لوگ جو مختلف لہجے میں شعر کہہ رہے ہیں؟
ظفر اقبال: ہاں، مثلاً احمد مشتاق ہیں یا کئی نئے شاعر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ میں یہ پہلے عرض کر دوں کہ مراکز کی نسبت مفصل میں زیادہ بہتر شاعری ہو رہی ہے۔ فیصل آباد میں ہو رہی ہے، کبیر والا میں ہو رہی ہے، وہاڑی میں ہو رہی ہے، بورے والا میں ہو رہی ہے، ملتان میں ہو رہی ہے۔ ملتان میں کم ہو رہی ہے لیکن کراچی میں، لاہور میں، اسلام آباد میں خال خال آپ کو شاعر ملے گا۔ فیصل آباد میں ثنا اللہ ظہیر ہے یا شیخوپورہ میں نوید رضا ہے، اس طرح افضل گوہر ہے ایک شاعر نیا۔ ان کا پیرایۂ اظہار نیا ہے کم از کم وہ نہیں جس سے ایک آدمی میں ناپسندیدگی کا اظہار پیدا ہو۔ میں شاید پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ شعر کا معیار یہ ہے اس جیسا شعر پہلے نہ کہا گیا ہو۔ اگر اس جیسا یا اس سے بہتر شعر پہلے کہا جا چکا ہے اس موضوع پر یا اس انداز میں تو پھر نیا شعر کہنے کی ضرورت نہیں آپ کو۔ مثلاً مضمون تو سارے دہرائے جا چکے ہیں بار بار، غزل کے خاص طور سے لیکن پھر بھی آپ پرانے مضمون کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں اور اسی سے وہ نیا ہو جاتا ہے۔ ہاں اس کے علاوہ سانگھڑ میں اکبر معصوم ہے، یہاں ہمارے شیخوپورہ میں شاہین عباس ہے، وہ دو تین کتابوں کے مصنف ہیں لیکن وہ شروع ہی سے عمدہ غزل لکھ رہے ہیں۔
سوال: تو مستقبل میں کیا امکانات نظر آتے ہیں، نئے غزل کہنے والوں کی اکثریت تو آپ کی پیروی کر رہی ہے تو ایک بار پھر؟
ظفر اقبال: نہیں دوسری بات یہ ہے کہ میری پیروی اگر کوئی کرتا ہے تو یہ تو ایک صدقۂ جاریہ ہے۔ اس سے جو لوگ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اٹھائیں لیکن انہیں بہر طور کچھ اپنا راستہ بنانا پڑے گا۔
سوال: اس کے آثار کچھ نظر آتے ہیں؟
ظفر اقبال: ہاں، ہاں، کیوں نہیں۔ دیکھیے اگر آپ نظریۂ ارتقاء میں یقین رکھتے ہیں تو یہ کام تو ہونا ہی ہونا ہے۔ جو کچھ میں نے کیا ہے وہ اگر میں نہ کرتا تو کوئی اور کر دیتا۔ یا اس سے آگے، میں نے شمش الرحمٰن فاروقی سے کہا تھا کہ آپ اب ظفر اقبال سے آگے کی بات کریں۔ کہ آگے کون کون لوگ ہیں۔ ان کے کیا آثار ہیں اور ان کے کیا امکانات ہیں؟ کیا معاملات ہیں ان کے؟ |
|
||||||||
Posted on October 14th, 2007 by adil
Filed under: General


Leave a Reply