ZAFAR IQBAL - 5

اپنی شاعری منسوخ بھی کر سکتا ہوں: ظفر اقبال
 
ظفر اقبال

اگر شاعری نہ کرتا
سوال: اور اگر آپ شعر نہ کہتے تو یہ ضرورت جو شعر کہنے سے پوری ہوتی ہے وہ کیسے پوری ہوتی؟
ظفر اقبال: ہو سکتا ہے کہ یہ ضرورت پھر پیدا ہی نہ ہوتی۔ کیوں کہ شعر تب آتا ہے اگر اندر سے اُسے کہنے کی ضرورت محسوس ہو۔ ورنہ شعر نہیں آتا نہ ہی آپ شاعر بن سکتے ہیں۔ یہ آپ کے اندر کی مجبوری ہے جو آپ سے شعر کہلاتی ہے اور اس لیے کہلواتی ہے کہ وہ یہ محسوس کرتی ہے کہ اس بندے کے پاس ایک ہنر ہے جو مجھے بیان کر سکتا ہے۔ پھر میں نے ایک جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ عمدہ شاعری جو ہے وہ خود اپنے آپ کو پڑھواتی ہے بلکہ اپنے آپ پر لکھنے کے لیے بھی اکساتی ہے۔ میں نے اخترالایمان کے بارے میں لکھا تھا، ’شب خون‘ میں شائع ہوا تھا کہ وہ ایک معمولی شاعر ہیں اور مجھے اتنے بڑے شاعر نہیں لگے۔ یہ ٹھیک ہے کہ میں نے انہیں اتنا زیادہ نہیں پڑھا لیکن اچھی شاعری تو پڑھواتی ہے اپنے آپ کو۔ وہ ایسے ہوتے کہ میں انہیں نظرانداز ہی نہ کر سکتا کہیں تو پھر بات تھی۔ پھر میں نے کہا کہ ہمارے ہاں جو قتیل شفائی ہیں یا مجروح سلطان پوری ہیں یہ بھی اوّل درجے کے شاعر نہیں تھے۔ ان دونوں کی جو وجہ ہے شہرت کی، قتیل شفائی کی جو ہے وہ فلم ہے یا ترقی پسند گروپ سے ان کی وابستگی ہے۔ اسی طرح مجروح صاحب نے بھی گانے گوائے اور سارا قصہ کہانی۔ اس کا بڑا ری ایکشن ہوا وہاں اور بڑے میرے خلاف خطوط بھی چھپے۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے لیکن میرے دل میں جو بات تھی اور جسے میں ٹھیک سمجھتا ہوں، ہو سکتا ہے وہ ٹھیک نہ ہو لیکن میں تو وہ ضرور کہہ دیتا ہوں۔

سوال: تو کیسے آپ یہ امتیاز قائم کرتے ہیں کہ یہ اوّل درجے کا شاعر ہے اور یہ نہیں ہے؟
ظفر اقبال: میں نے آپ سے عرض کیا ہے نا کہ غالب تک آتے آتے مصرع زیادہ ششتہ ہو گیا ہے۔ نمبر دو غالب تک آتے آتے زبان کا طریقۂ استعمال بھی تبدیل ہوا ہے۔ میر کے ہاں جو کڈھب مصرے اور کھردرے الفاظ ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ میر غالب کے مقابلہ میں زیادہ پرولیفک (خلاق و فراواں) ہیں اور غالب سے کئی گنا زیادہ الفاظ انہوں نے شاعری میں استعمال کیے ہیں۔ اسی لیے، کوئی ویسے ہی خدائے سخن نہیں کہہ دیتا کسی کو۔ خدائے سخن تو وہ ہیں لیکن آج انہیں اپریشیٹ کرنا (سراہنا) بہت مشکل ہے۔ ان کے اکثر اشعار کو ڈیکوڈ کرنا اور ان کے معنی نکالنا۔ کیوں کے اس وقت جو الفاظ کی صورتِ حال تھی، جو نشست و برخاست تھی الفاط کی وہ کچھ اور طریقے سے تھی۔ مناسباتِ لفظی اور طریقے سے آتے تھے۔ اب بھی آتے لیکن اور طریقے سے آتے ہیں۔ تو غالب اس لیے زیادہ پُر کشش ہے کہ وہ میر سے زیادہ ماڈرن (جدید) ہے۔ ایک تو اسی لیے کہ بعد میں آیا اور دوسرا یہ کہ یہ جو ماڈرن ہونا ہے۔ فیض صاحب سے پوچھا گیا کہ شعر کیسا ہونا چاہیے تو وہ کہتے تھے کہ شعر تو تازہ ہونا چاہیے۔ یہ بڑی خوبصورت بات ہے اور یہی سب باتوں کا نتیجہ بھی ہے کہ شعر جو تازہ نہ ہو وہ شعر نہیں ہے۔ اب شعر میں تازگی کیسے آئے۔ وہ شاعر کی توفیق پر بھی منحصر ہے کہ اس نے کیا کچھ پڑھ رکھا ہے اور اسے یہ دیکھنا کہ وہ کہیں کسی استاد کو یا سابقہ شاعر کو دہرا تو نہیں رہا، یا کسی کلاسیک کو۔ اس کے بعد اس کی توفیق یہ ہے کہ وہ شعر اپنے انداز میں یعنی مختلف طریقے سے کہے۔ جس طریقے سے شعر پہلے کہا جا چکا ہے وہ کسی کو بھی قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ وہ شعر کو کلیشے بنانے میں ہی مددگار ہو سکتا اور شعر کلیشے سے تبھی بچ سکتا ہے اگر پیرایۂ اظہاراس کا نیا ہو۔ الفاظ اور زبان کو اس طریقے سے استعمال کیا گیا ہو کہ اس سے پہلے نہ کیا گیا ہو۔ میں نے جو کچھ زبان کے ساتھ کیا ہے وہ اس لیے بھی کر گذرا ہوں کہ زبان لوگوں کی بنائی ہوئی ہے کوئی آسمان سے اتری ہوئی تو ہے نہیں۔ ارتقاء پر اگر اپ ایمان رکھتے ہیں تو آج سے دو سو سال پہلے کے انسان اور شاعر کی نسبت آج کے شاعر کو زیادہ ترقی یافتہ اور بہتر ہونا چاہیے۔
شاعری نہ کرتا تو

Leave a Reply