Zafar Iqbal -7
![]() |
|
![]() ان گھڑ مقلدین کا سیلاب
سوال: عام طور پر اب آپ اپنا دن کیسے گذارتے ہیں؟
ظفر اقبال: آج کل تومیں تقریباً فارغ ہوں میری موومنٹ اور ایکٹیویٹی بھی زیادہ نہیں ہے۔ اگر میں جلدی سو جاؤں تو ڈھائی تین بجے میری آنکھ کھل جاتی ہے پھر مجھے نیند نہیں آتی۔ پھر صبح کے ایک قریب ایک جھونکا سا اور آتا ہے اور میں کوئی ایک ڈیڑھ گھنٹہ اور سو لیتا ہوں۔ میری نیند کوئی چار ساڑھے چار گھنٹے کی ہے جو پوری ہو جاتی ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں بلکہ میرا ایک شعر ہے:
اور کیا چاہیے کہ اب بھی ظفر اب یہ کوئی شعر کا موضوع تو نہیں ہے لیکن میں ایسے ایسے موضوعات پر شعر کہے ہیں کہ جنہیں اس سے پہلے نہیں چھوا گیا تھا۔ سوال: اس سب کے بعد اب آپ کیسے کہیں گے کہ آپ غزل میں کیا تبدیلی لائے؟
ظفر اقبال: میں اس بات پر تو کبھی غور نہیں کیا کہ میں یہ بات بتاؤں اور اس بات کا دعویٰ کروں لیکن جو میرے مقلدین ہیں وہی بتا سکتے ہیں کہ اگر کوئی تبدیلی آئی ہے تو وہی کر رہے ہیں وہ۔ بلکہ ’ادبیات‘ (پاکستان میں اکادمی ادبیات کا رسالہ) کا جو تازہ پرچہ آیا ہے، وہ دیکھا ہے آپ نے؟ اس میں آصف فرخی کا مضمون ہے۔ وہ غیر متعلق ہے لیکن غزل کا اس نے ذکر کیا ہے۔ اور اس نے لکھا ہے کہ ظفر اقبال کے ان گھڑ مقلدین کا ایک سیلاب جو ہے وہ بھی ایک خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔
سوال: ان گھڑ؟ظفر اقبال: ان گھڑ ، یعنی جو ابھی تیار نہیں ہوتے اور ظفر اقبال کی نقل شروع کر دیتے ہیں اور مار کھا جاتے ہیں۔ سوال: میں یہ کہہ رہا تھا کہ پہلے غزل کی تعریف یہ کی جاتی تھی کہ ’غزل عورتوں سے باتیں کرنے کا نام ہے‘۔ اس میں آپ کیا تبدیلی لائے ہیں؟
ظفر اقبال: دیکھیں یہ غزل کا اساسی موضوع ہے عشق جو ہے اور محبت ہے اس کے بغیر تو غزل نہیں کہی جا سکتی۔ کہیں کہیں آپ اس میں تڑکا لگا دیں عشقِ حقیقی کا لیکن ہم نے اس کے موضوعات کو پھیلا دیا ہے۔ ہاں! ایک بات میں خاں طور پر نوٹ کروانا چاہتا ہوں کہ جہاں تک میرے لب و لہجے کا سوال ہے تو میں اسے تبدیل کرتا رہتا ہوں۔ میں تو کہیں ٹک کر بیٹھتا ہی نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کے میرا کام زیادہ تر ایکڈیمک ہے۔ میری شاعری مشاعرے کی شاعری نہیں ہے۔ نہ یوں ہے کہ میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے شعر کہتا ہوں۔ لوگ قاری کو راغب کرتے ہیں، میں قاری کو اشتعال دلاتا ہوں باقاعدہ۔ بعض اوقات۔ ایک چیلنج کے طور پر کہ تیری ایسی کی تیسی دیکھو یہ۔
سوال: مقبولیت حاصل کرنے کا کام باقی ہے؟
ظفر اقبال: نہیں۔ میرا مطلب ہے کہ بعض لوگ صرف مقبولیت حاصل کرنے کے لیے شعر کہتے ہیں اب اگر میری کوئی مقبولیت ہے تو وہ خوامخواہ ہی آ گئی ہے میں تو اس کے لیے کوئی تگ و دو نہیں کی۔
سوال: یہ بتائیں کہ اب بھی آپ کسے زیادہ پڑھتے ہیں یا پڑھنے میں ترجیح دیتے ہیں؟
ظفر اقبال: غالب پر تان ٹوٹتی ہے سبھی کی، میری بھی اُسی پر ٹوٹتی ہے۔ میر صاحب کے ہاں کہیں کہیں، کوئی دو ایکڑ کے فاصلے پر، کوئی شعر کہیں نظر آتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ باقی سارا بھُس بھرا ہوا ہے۔ وہ اس طرح کہ ان وقتوں میں شعر جیسے کہا جاتا تھا اور جس طرح شعر کی تحسین کی جاتی تھی، آج نہ اس طرح شعر کہا جاتا ہے اور نہ اس کی تحسین کی جاتی ہے۔ لیکن غالب کا کمال یہ کہ وہ ماڈرن ہے اور غالب تک آتے آتے مصرعے رواں اور برجستہ ہو گیا تھا۔ غالب نے اس سے کام لیا اور اس طرح غالب سلیکٹیو زیادہ ہے میر کی نسبت لیکن یہ فراق صاحب ہیں، تو شروع میں میں نے ان کے مجموعے دیکھے تھے لیکن اب دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا میں انہیں دیکھنے کی۔ ان کے ہاں بھی یہ ہے کہ کہیں کہیں شعر کوئی نظر آتا ہے۔ وہ بھی میر صاحب ہی کہ پیرو ہیں لیکن جو میر کا پیرو ہے میر اس کا کافی حصہ کھا جاتا ہے۔ جس طرح ناصر کاظمی کا کھا گیا پھر ناصر کاظمی تو فراق سے ہوتا ہوا میر کا پیرو ہوا۔
سوال: اس کے علاوہ فکشن؟
ظفر اقبال: فکشن میں پڑھتا نہیں ہوں۔ میں انتظار صاحب کی فکشن اس لیے پسند کرتا ہوں کہ وہ نثر بہت عمدہ لکھتے ہیں۔ ایک مزا ہے ان کی نثر میں۔ باقی میں فکشن کی طرف زیادہ متوجہ نہیں ہوا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ’اٹ از ناٹ مائی ڈش‘ دوسرا یہ کہ اگر میں فکشن پڑھتا رہتا تو یہ سارا کام کس نے کرنا تھا لیکن آصف فرخی کا فون آیا کہ انتظار حسین کی کتاب آئی ہے ’نئی پرانی کہانیاں‘ آپ اس پر لکھیں۔ میں کہا کہ مجھے کیا پتہ ہے فکشن کا۔ اس نے کہا کہ نہیں نہیں آپ ضرور لکھیں جیسا بھی ہے۔ خیر میں نے انتظار صاحب کو فون کیا، انہوں نے مجھے کتاب بھجوا دی۔ اس سے پہلے میرے پاس محمد سعید شیخ کی کہانیوں کا مجموعہ آیا ہوا تھا۔ میں نے دونوں کو بھگتا دیا اس میں۔ کافی طویل پانچ سات صفحے کا مضمون ہے۔ اس میں، میں نے انتظار صاحب کے بارے میں خاص طور پر یہ بات لکھی کہ یہ جو کہانیاں ہیں، پرانی کتھاؤں کے جو اساطیری حوالے ہیں یا دیو مالائیں ہیں، ہندوستان کا جو کلچر ہے خاص اس سے متعلق ہیں۔ من و عن انتظار صاحب نے اس میں بھر دیا ہے تو اس میں انتظار صاحب کا کیا کمال ہے۔ اس کوئی تبدیلی نہیں کی۔ یہ سلیکشن کیا ہے۔ فلاں جگہ سے فلاں چیز اٹھا لی اور فلاں جگہ سے فلاں چیز اٹھا لی اور اپنی کہانیاں کہہ کر چھاپ دیا۔ اور پھر نئی پرانی کہانیاں، یہ نئی کہاں، یہ تو سب پرانی ہیں۔
سوال: اور آپ سے پہلے کی اور بعد کی شاعری میں، نظم کی شاعری میں خاص طور پر؟
ظفر اقبال: نظم میں تو لوگ ہیں۔ ن م راشد ہیں، فیض ہیں، میرا جی ہیں سب سے پہلے۔ مجید امجد بھی ہیں خاصی حد تک۔ |
|
||||||||
Posted on October 14th, 2007 by adil
Filed under: General



Leave a Reply